
میرا پہلا کمپیوٹر — ایک یادگار سفر
میرا پہلا کمپیوٹر ایک ایسی چیز تھا جس نے میری دنیا ہی بدل دی۔ وہ وقت جب میں نے پہلی بار اس سست رفتار مگر جادُوئی مشین کی سکرین روشن دیکھی، میرا دل خوشی سے بھر اٹھا۔ اس کمپیوٹر کا نام یا ماڈل میرے ذہن میں دھندلا سا ہے، مگر ہر لمحہ واضح ہے — وہ گرِی شیل، بڑی بیسک کی بورڈ اور وہ پرانا مانیٹر جس کی کریسپ ڈسپلے پر ہر حرف ایک فتح محسوس ہوتا تھا۔

میں نے اسے گھر لایا تو سب سے پہلے ماں نے کہا یہ بڑا قیمتی ہے، محتاط رہنا۔ میں نے اس کی چابیاں پہلو سے لگاتے ہوئے سوچا کہ یہ صرف مشین نہیں، بلکہ ایک دروازہ ہے۔ دروازہ جس کے پار بے شمار کہانیاں، معلومات اور تخلیقی مواقع چھپے ہیں۔ شروع میں میں سست رفتاری پر حیران ہوتا — کبھی پروگرام کھلتے کھلتے رُک جاتے، کبھی کمپیوٹر نے ناسمجھانہ انداز میں ری اسٹارٹ کر دیا۔ مگر یہی ناکام کوششیں اور تجربات مجھے سکھاتی رہیں۔
میں نے سب سے پہلے ٹائپنگ سیکھنے کی کوشش کی۔ الفاظ جو پہلے کاغذ اور قلم پر دکھائی دیتے تھے، اب پی سی پر چمک اٹھتے تھے۔ غلطیاں، بیک اسپیس کا شور، مگر آخر میں سیدھا پیرا گراف — ایک بے مثال تکمیل کا احساس۔ اس کے بعد میں نے چھوٹے چھوٹے گیمز کھیلے۔ پکسلز والی دنیا مگر مزہ لاجواب۔ ہر لیول جیتنا ایک چھوٹی جیت تھی جو میری خود اعتمادی بڑھاتی گئی۔

انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں جب کنیکشن معمولی تھا، پھر بھی وہ لمحے یادگار ہیں جب میں نے پہلی بار ایک ایمیل بھیجی۔ ایمیل بھیجتے ہوئے دل دھڑکا — کہیں لفظ گم نہ ہو جائیں۔ مگر جب جواب آیا تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دنیا قریب آ چکی تھی؛ دوست، علم اور موسیقی اب ایک کلک دور تھے۔ کمپیوٹر نے نہ صرف معلومات تک رسائی دی بلکہ میرے خیالات کو منظم کرنا، تخلیق کرنا اور دوسروں سے جڑنے کا ذریعہ بنایا۔

اس تجربے نے مجھے صبر سکھایا۔ جب سسٹم کریش ہوتا تو میں نے تکنیکی مسئلے حل کرنا سیکھا — ریبوٹ، سیف موڈ، اور بعد میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کا فن۔ میرے لئے یہ ایک تعلیمی سفر تھا جس میں ہر مسئلے نے مجھے مضبوط بنایا۔ میں نے معمولی کوڈنگ کے تجربات بھی کیے، جس میں ایک لائن کوڈ نے کچھ نیا پیدا کیا — وہ لمحہ کسی چھوٹی سی تخلیقی فتح سے کم نہیں تھا۔
آج جب میں جدید لیپ ٹاپز اور تیز انٹرنیٹ کو دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی اپنے پرانے کمپیوٹر کی یاد آتی ہے — سادہ، خام مگر پرامید۔ اسی نے مجھے ڈیجیٹل دنیا کا دروازہ کھول کر دیا۔ اس نے میرے اندر کی تجسس کو پروان چڑھایا اور مجھے یہ سکھایا کہ تکنیک صرف ٹول ہے؛ اصل قوت ہماری سوچ اور کوشش ہے۔


میرا پہلا کمپیوٹر اب شاید کہیں ریتھیل کورنر میں پڑا ہو یا کسی یادوں کے خانے میں بند ہو، مگر اس نے جو ابتدائی جوش، سیکھنے کی لذت اور خود اعتمادی دی، وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ مجھے فخر ہے کہ اس نے مجھے نئے افق دکھائے — اور میں آج بھی ہر نئے ٹیکنالوجی کو دیکھ کر اسی پہلے کمپیوٹر والی جوش سے خوش ہوتا ہوں۔

Leave a comment